حضرت خالد بن ولید ؓ کی بہادری
حضرت خالد بن ولید ؓ کی بہادری
حضرت خالد بن ولید ؓ فرماتے ہیں کہ غزوۂ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک تلوار رہ گئی تھی جو یمن کی بنی ہوئی اور چوڑی تھی۔2حضرت اَوس بن حارثہ بن لام ؓ فرماتے ہیں کہ ہُرمُزْسے زیادہ (مسلمان) عربوں کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ جب ہم مُسَیْلمہ اور اس کے ساتھیوں (کو ختم کرنے) سے فارغ ہوئے تو ہم بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو مقام ِ کاظمہ پر ہمیں ہُرمُزْملا جو بہت بڑا لشکر لے کر آیا ہوا تھا۔ حضرت خالد ؓ مقابلہ کے لیے میدان میں نکلے اور اسے اپنے مقابلہ کی دعوت دی، چنانچہ وہ مقابلہ کے لیے میدان میں آگیا۔ حضرت خالد نے اسے قتل کر دیا۔ یہ خوش خبری حضرت خالد نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو لکھی۔ جواب میں حضرت ابو بکر نے لکھا کہ ہُرمُزْ کا تمام سامان ہتھیار، کپڑے، گھوڑا وغیرہ حضرت خالد کو دے دیا جائے۔ چنانچہ ہُرمُزْ کے ایک تاج کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، کیوں کہ اہل ِفارس جسے اپنا سردار بناتے اسے لاکھ درہم کا تاج پہناتے تھے۔1
حضرت ابو الزناد فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید ؓ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے اور فرمایا کہ میں اتنی اتنی (یعنی بہت زیادہ) جنگوں میں شریک ہوا ہوں اور میرے جسم میں بالشت بھر جگہ ایسی نہیں ہوگی جس میں تلوار یا نیزے یا تیر کا زخم نہ ہو۔ اور دیکھو! اب میں اپنے بستر پر ایسے مر رہاہوں جیسے کہ اُونٹ مر ا کرتا ہے یعنی مجھے شہادت کی موت نصیب نہ ہوئی۔ اللہ کرے بزدلوں کی آنکھوں میں کبھی نیند نہ آئے۔ 2 (حیاۃ الصحابہؓ 556)
Comments
Post a Comment