حضرت ابو محجن ثقفی ؓ کی بہادری
حضرت ابو محجن ثقفی ؓ کی بہادری
حضرت ابنِ سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو محجن ثقفی ؓکو شراب پینے کی وجہ سے کوڑے لگا کر تے تھے۔ جب بہت زیادہ پینے لگے تو مسلمانوں نے انھیں باندھ کر قید کر دیا۔ جب جنگِ قادسیّہ کے دن یہ مسلمانوں کو دشمن سے لڑ تے ہوئے دیکھ رہے تھے تو انھیں یہ محسوس ہوا کہ مشرکوں نے مسلمانوں کو بھاری نقصان پہنچایاہے۔ تو انھوں نے (مسلمانوں کے امیر) حضرت سعد ؓ کی اُمّ ولد یا اُن کی بیوی کے پاس پیغام بھیجا کہ ابو محجن یہ کہہ رہا ہے کہ اسے جیل خانہ میں سے رہا کر دو اور اسے یہ گھوڑا اور یہ ہتھیار دے دو۔ وہ جا کر دشمن سے جنگ کرے گا اور پھر وہ تمام مسلمانوں سے پہلے تمہارے پاس واپس آجائے گا تم اسے پھر جیل خانہ میں باندھ دینا۔ ہاں! اگر ابو محجن وہاں شہید ہو گیا تو پھر اور بات ہے۔ اور یہ اَشعار پڑھنے لگے :
کَفٰی حُزْنًا أَنْ تَلْتَقِيَ
الْخَیْلُ بِالْقَنَا
وَأُتْرَکَ مَشْدُوْدًا عَلَيَّ وَثَاقِیًا
وَأُتْرَکَ مَشْدُوْدًا عَلَيَّ وَثَاقِیًا
رنج وغم کے لیے اتنا کافی ہے کہ سوار تو نیزے لے کر لڑ
رہے ہیں اور مجھے بیڑیوں میں باندھ کر جیل خانہ میں چھوڑ دیا گیا ہے۔
إِذَا قُمْتُ عَنَّانِيَ الْحَدِیْدُ
وَغُلِّقَتْ
مَصَارِعُ دُوْنِيْ قَدْ تُصِمُّ الْمُنَادِیَا
مَصَارِعُ دُوْنِيْ قَدْ تُصِمُّ الْمُنَادِیَا
جب میں کھڑا ہوتا ہوں تو لوہے کی بیڑیاں میرے قدم روک
لیتی ہیں، اور میرے شہید ہونے کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں، اور میری طرف سے
پکارنے والے کو بہرا کر دیا گیا ہے۔
اس باندی نے جا کر حضرت سعد ؓ کی بیوی کو ساری بات بتائی۔ چناںچہ حضرت سعدکی بیوی نے اُن کی بیڑیاں کھول دیں اور گھر میں ایک گھوڑا تھا وہ اُن کو دے دیا اور ہتھیار بھی دے دیے۔ تو گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے نکلے اور مسلمانوں سے جا ملے۔ وہ جس آدمی پر بھی حملہ کرتے اسے قتل کر دیتے اور اس کی کمر توڑ دیتے۔ جب حضرت سعد نے اُن کو دیکھا تو ان کو بڑی حیرانی ہوئی اور وہ پوچھنے لگا: یہ سوار کون ہے؟ بس تھوڑی ہی دیر میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دے دی اور حضرت ابومحجن نے واپس آکر ہتھیار واپس کر دیے اور اپنے پیروں میں پہلے کی طرح بیڑیاں ڈال لیں۔ جب حضرت سعد اپنی قیام گاہ پر واپس آئے تو اُن کی بیوی یا اُن کی اُمّ ولد نے کہا: آپ کی لڑائی کیسی رہی؟
حضرت سعد لڑائی کی تفصیل بتانے لگے اور کہنے لگے: ہمیں ایسے ایسے شکست ہونے لگی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سفید سیاہ گھوڑے پر ایک آدمی کو بھیج دیا۔ اگر میں ابو محجن کو بیڑیوں میں بندھا ہوا چھوڑ کر نہ گیا ہوتا تو میں یقین کر لیتا کہ یہ ابو محجن کا کارنامہ ہے۔ تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ابو محجن ہی تھے۔ اور پھر اُن کا سارا واقعہ سنایا۔ حضرت سعد نے حضرت ابو محجن کو بلاکر اُن کی بیڑیاں کھول دیں اور اُن سے فرمایا کہ (تم نے آج مسلمانوں کی شکست کو فتح میں بدل دیا ہے اس لیے اب) آیندہ تمہیں شراب پینے کی وجہ سے کبھی کوڑے نہیں ماریں گے۔ اس پر حضرت ابومحجن نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی اب آیندہ کبھی شراب نہیں پیوں گا۔ چوں کہ آپ مجھے کوڑے مار لیتے تھے اس لیے میں شراب چھوڑنا پسند نہیں کرتا تھا۔ چناںچہ اس کے بعد حضرت ابو محجن نے کبھی شراب نہ پی۔
اس باندی نے جا کر حضرت سعد ؓ کی بیوی کو ساری بات بتائی۔ چناںچہ حضرت سعدکی بیوی نے اُن کی بیڑیاں کھول دیں اور گھر میں ایک گھوڑا تھا وہ اُن کو دے دیا اور ہتھیار بھی دے دیے۔ تو گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے نکلے اور مسلمانوں سے جا ملے۔ وہ جس آدمی پر بھی حملہ کرتے اسے قتل کر دیتے اور اس کی کمر توڑ دیتے۔ جب حضرت سعد نے اُن کو دیکھا تو ان کو بڑی حیرانی ہوئی اور وہ پوچھنے لگا: یہ سوار کون ہے؟ بس تھوڑی ہی دیر میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دے دی اور حضرت ابومحجن نے واپس آکر ہتھیار واپس کر دیے اور اپنے پیروں میں پہلے کی طرح بیڑیاں ڈال لیں۔ جب حضرت سعد اپنی قیام گاہ پر واپس آئے تو اُن کی بیوی یا اُن کی اُمّ ولد نے کہا: آپ کی لڑائی کیسی رہی؟
حضرت سعد لڑائی کی تفصیل بتانے لگے اور کہنے لگے: ہمیں ایسے ایسے شکست ہونے لگی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سفید سیاہ گھوڑے پر ایک آدمی کو بھیج دیا۔ اگر میں ابو محجن کو بیڑیوں میں بندھا ہوا چھوڑ کر نہ گیا ہوتا تو میں یقین کر لیتا کہ یہ ابو محجن کا کارنامہ ہے۔ تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ابو محجن ہی تھے۔ اور پھر اُن کا سارا واقعہ سنایا۔ حضرت سعد نے حضرت ابو محجن کو بلاکر اُن کی بیڑیاں کھول دیں اور اُن سے فرمایا کہ (تم نے آج مسلمانوں کی شکست کو فتح میں بدل دیا ہے اس لیے اب) آیندہ تمہیں شراب پینے کی وجہ سے کبھی کوڑے نہیں ماریں گے۔ اس پر حضرت ابومحجن نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی اب آیندہ کبھی شراب نہیں پیوں گا۔ چوں کہ آپ مجھے کوڑے مار لیتے تھے اس لیے میں شراب چھوڑنا پسند نہیں کرتا تھا۔ چناںچہ اس کے بعد حضرت ابو محجن نے کبھی شراب نہ پی۔
حضرت محمد بن سعد کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو محجن
ؓ وہاں سے گئے اور مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے۔ وہ جس طرف بھی حملہ کرتے اللہ تعالیٰ
اس طرف والوں کو شکست دے دیتے۔ لوگ اُن کے زور دار حملوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ
یہ تو کوئی فرشتہ ہے۔ اور حضرت سعد ؓ بھی یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ کہنے لگے
کہ اس گھوڑے کی چھلانگ تو (میرے گھوڑے) بَلْقا جیسی ہے اور اس آدمی کے حملہ کرنے
کا انداز تو ابو محجن جیسا ہے، لیکن ابو محجن تو بیڑیوں میں قید پڑا ہوا ہے۔ جب
دشمن کو شکست ہوگئی تو حضرت ابومحجن نے واپس جاکر بیڑیوں میں پائوں ڈال کر باندھ
لیے۔ پھر حضرت بنتِ خَصْفہ نے حضرت سعد کو حضرت ابو محجن کی ساری بات بتائی۔ اس پر
حضرت سعد نے فرمایا کہ جس آدمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا اِکرام
فرمایا میں آیندہ اسے کبھی حد شرعی نہیں لگائوں گا۔ اور یہ کہہ کر انھیں چھوڑ
دیا۔ اس پر حضرت ابو محجن نے فرمایا کہ چوں کہ مجھ پر حد قائم کی جاتی تھی اور
مجھے گناہ سے پاک کر دیا جاتا تھا اس وجہ سے میں شراب پی لیتا تھا، اب جب کہ مجھے
سزا نہ دینے کا فیصلہ ہو گیا ہے تو اللہ کی قسم! اب میں کبھی شراب نہیں پیوں گا۔ 1
اور اسی واقعہ کو حضرت سیف نے’’ فتوح‘‘ میں ذکر کیا ہے اور کافی لمبا کر کے بیان کیا ہے اور مزید اَشعار بھی ذکر کیے ہیں اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت ابو محجن ؓ نے خوب زور دار لڑائی لڑی۔ وہ زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر حملہ کرتے تو اُن کے سامنے کوئی نہ ٹھہر سکتا تھا اور وہ اپنے زور دار حملوں سے دشمن کے آدمیوں کو خوب مارتے چلے جا رہے تھے۔ مسلمان انھیں دیکھ کر بہت حیران ہو رہے تھے لیکن کوئی بھی انھیں پہچان نہ سکا۔2 (حیاۃ الصحابہؓ)
اور اسی واقعہ کو حضرت سیف نے’’ فتوح‘‘ میں ذکر کیا ہے اور کافی لمبا کر کے بیان کیا ہے اور مزید اَشعار بھی ذکر کیے ہیں اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت ابو محجن ؓ نے خوب زور دار لڑائی لڑی۔ وہ زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر حملہ کرتے تو اُن کے سامنے کوئی نہ ٹھہر سکتا تھا اور وہ اپنے زور دار حملوں سے دشمن کے آدمیوں کو خوب مارتے چلے جا رہے تھے۔ مسلمان انھیں دیکھ کر بہت حیران ہو رہے تھے لیکن کوئی بھی انھیں پہچان نہ سکا۔2 (حیاۃ الصحابہؓ)
Comments
Post a Comment