حضرت عبد اللہ ابنِ جَحش اور سعد بن ابی وقاس رضی اللہ عنہما کی دعا
حضرت عبد اللہ ابنِ جَحش اور سعد بن ابی وقاس رضی اللہ عنہما کی دعا
حضرت عبداللہ بن جَحْش ؓ نے غزوۂ اُحُد میں حضرت سعدبن اَبی وَقَّاص ؓ سے کہا: اے سعد! آؤ مِل کردعاکریں، ہرشخص اپنی ضرورت کے موافق دعاکرے، دوسرا آمین کہے، یہ قَبول ہونے کے زیادہ قریب ہے، دونوں حضرات نے ایک کونے میں جاکر دعا فرمائی، اوَّل حضرت سعد ؓ نے دعا کی: ’’یااللہ! جب کل کولڑائی ہو تو میرے مقابلے میں ایک بڑے بہادر کو مقرَّر فرما، جو سخت حملے والاہو، وہ مجھ پرسخت حملہ کرے اور مَیں اُس پر زوردار حملہ کروں، پھرمجھے اُس پرفتح نصیب فرما کہ مَیں اُس کوتیرے راستے میں قتل کروں اوراُس کی غنیمت حاصل کروں‘‘، حضرت عبداللہ ؓ نے آمین کہی۔
اِس کے بعدحضرت
عبداللہؓ نے دعاکی: ’’اے اللہ! کل کومیدان میں ایک بہادرسے مقابلہ کرا جوسخت حملے
والاہو، مَیں اُس پر شدَّت سے حملہ کروں، وہ بھی مجھ پر زور سے حملہ کرے، اور پھر
وہ مجھے قتل کردے، پھرمیرے ناک، کان کاٹ لے، پھر قِیامت میں جب تیرے حضور میں پیشی
ہو، تو تُوکہے: عبداللہ! تیرے ناک، کان کیوں کاٹے گئے؟ مَیں عرض کروں:یااللہ! تیرے
اورتیرے رسول ﷺ کے
راستے میں کاٹے گئے، پھر تُوکہے کہ: سچ ہے، میرے ہی راستے میں کاٹے گئے‘‘، حضرت
سعدؓ نے آمین کہی۔ دوسرے دن لڑائی ہوئی، اور دونوں حضرات کی دعائیں اُسی طرح
قَبول ہوئی جس طرح مانگی تھیں۔ (تاریخ خمیس، ۱؍ ۴۴۲)
سعدؓ کہتے ہیں کہ: عبداللہ بن جحش ؓ کی دعا میری دعاسے بہتر تھی، مَیں نے شام کو دیکھا کہ اُن کے ناک، کان ایک تاگے میں پُروئے ہوئے ہیں۔ اُحُد کی لڑائی میں اُن کی تلوار بھی ٹوٹ گئی تھی، حضورﷺ نے اُن کوایک ٹہنی عطافرمائی جو اُن کے ہاتھ میں جاکرتلواربن گئی، اور عرصے تک بعد میں رہی، اور دوسو دینارکوفروخت ہوئی۔( دینار سونے کے ایک سکے کانام ہے)۔(اِصابہ)
فائدہ: اِس قصے میں جہاں ایک جانب کمالِ بہادری ہے کہ بہادر دشمن سے مقابلے کی تمنا ہے، وہاں دوسری جانب کمالِ عشق بھی، کہ محبوب کے راستے میں بدن کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی تمنا کرے، اورآخر میں جب وہ پوچھے کہ: یہ سب کیوں ہوا؟ تو مَیں عرض کروں: تمھارے لیے۔
سعدؓ کہتے ہیں کہ: عبداللہ بن جحش ؓ کی دعا میری دعاسے بہتر تھی، مَیں نے شام کو دیکھا کہ اُن کے ناک، کان ایک تاگے میں پُروئے ہوئے ہیں۔ اُحُد کی لڑائی میں اُن کی تلوار بھی ٹوٹ گئی تھی، حضورﷺ نے اُن کوایک ٹہنی عطافرمائی جو اُن کے ہاتھ میں جاکرتلواربن گئی، اور عرصے تک بعد میں رہی، اور دوسو دینارکوفروخت ہوئی۔( دینار سونے کے ایک سکے کانام ہے)۔(اِصابہ)
فائدہ: اِس قصے میں جہاں ایک جانب کمالِ بہادری ہے کہ بہادر دشمن سے مقابلے کی تمنا ہے، وہاں دوسری جانب کمالِ عشق بھی، کہ محبوب کے راستے میں بدن کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی تمنا کرے، اورآخر میں جب وہ پوچھے کہ: یہ سب کیوں ہوا؟ تو مَیں عرض کروں: تمھارے لیے۔
رہے گاکوئی تو تیغِ سِتم کے یادگاروں
میں
مِرے لاشے کے ٹکڑے دفن کرنا سو مزاروں میں (فضائلِ اعمال، حکایتِ صحابہؓ)
مِرے لاشے کے ٹکڑے دفن کرنا سو مزاروں میں (فضائلِ اعمال، حکایتِ صحابہؓ)
Comments
Post a Comment