حضرت حَنظَلہ کی شہادت


حضرت حَنظَلہ کی شہادت

غزوۂ اُحُد میں حضرت حَنظَلہ ص اوَّل سے شریک نہیں تھے، کہتے ہیں کہ: اِن کی نئی شادی ہوئی تھی، بیوی سے ہم بستر ہوئے تھے، اِس کے بعدغسل کی تیاری کررہے تھے، اورغسل کرنے کے لیے بیٹھ بھی گئے تھے، سرکودھو رہے تھے کہ ایک دَم مسلمانوں کی شکست کی آواز کان میں پڑی، جس کی تاب نہ لاسکے، اِسی حالت میں تلوارہاتھ میں لی اورلڑائی کے میدان کی طرف بڑھے چلے گئے، اور کُفَّار پرحملہ کیا، اور برابربڑھتے چلے گئے کہ اِسی حالت میں شہید ہوگئے۔ چوں کہ شہید کواگر جُنُبی نہ ہو توبغیر غسل دیے دفن کیاجاتا ہے؛ اِس لیے اِن کوبھی اِسی طرح کردیا؛ مگر حضورِاکرم ﷺ نے دیکھا کہ ملائکہ اُن کوغسل دے رہے ہیں، حضورﷺ نے صحابہ ث سے ملائکہ کے غسل دینے کاتذکرہ فرمایا، حضرت ابوسعید ساعِدی صکہتے ہیں کہ: مَیں نے حضورِاکرم ﷺ کا یہ اِرشاد سن کر حنظلہص کو جاکر دیکھا، تو اُن کے سر سے 

غسل کاپانی ٹَپک رہا تھا، حضورﷺ نے واپسی پر تحقیق فرمائی تواُن کے بغیر نہائے جانے کاقصہ معلوم ہوا۔ (قُرۃُ العیون)
فائدہ: یہ بھی کمالِ بہادری ہے، بہادر آدمی کواپنے ارادے میں تاخیر کرنا دشوار ہوتا ہے؛ اِس لیے اِتناانتظار بھی نہیں کیا کہ غسل پورا کرلیتے۔ (حکایتِ صحابہؓ ، فضائل اعمال)

Comments

Popular Posts